ghouse azam dastagir ghouse azam dastagir dargah ghouse azam images ghouse azam dastagir ki karamat ghouse azam qawali ghous e azam history hazrat ghouse azam dastagir images 11 names of ghouse azam

Breaking

Saturday, July 25, 2020

Gayarveen SHareef Hadees Nabvi Aur Haqeeqat Ki Roshni Me

گیارہویں شریف حد یث نبوی ﷺاور حقیقت کی روشنی میں 

 تمام اہل سنت وجماعت مسلمان اور صوفیائے کرام دیگرنذر ونیاز الہیٰ اور خیرات و صدقات کے علاوہ  ہر قمر ی ماہ کی گیارہویں تاریخ کو بھی محض خدا تعالیٰ کی رضا جوئی  اورخوشنودی  کے لیے حسب تو فیق بکثرت کھا نا پکواتے اور غرباء و مساکین کو فی سبیل اللہ کھلا دیتے ہیں اور کسی قدر قرآن شریف پڑھ کر یا اگر ممکن ہو تو کچھ وعظ و نصحیت اور منا قب  و فضائل غوث الا عظم و دیگر اولیاء اللہ بیان کرکے اس قرآن شریف اور کھانے کا ثواب بتوسّل حضور پر نور سرور عالم ﷺ جناب غوث الا عظم جملہ مئو منین اور دیگر بُز ر گان دین کی ارواح مقدسہ کو بخش دیتے ہیں، اور یہ نیاز عرف عام میں گیارہویں شریف کہلاتی ہے،  

 گیا رہویں شریف کی اصل حقیقت:

اب دیکھنا یہ ہے کہ گیارہویں شریف کی نیاز کی اصل حقیقت کیا ہے اور یہ کسی طرح جاری ہوئی ،سواس کے متعلق کتاب قرۃ النا ظر ہ و خلا صۃ المفا  خرہ امام یا فعی صفحہ (۱۱ ) میں لکھا  ہے ؛ حضرت محبوب سبحانی قطب ربانی شیخ عبد القادر جیلانی ؓ کی گیارہویں شریف کا ذکر تھا ،ارشاد  ہوا کہ گیارہویں شریف کی اصلیت یہ تھی کہ حضرت غوث صمدانی حضور پر نور  ﷺ کے چالیسویں کا ختم شریف ہمیشہ گیارہ ماہ ربیع الآ خر کو کیا کرتے تھے ،وہ نیاز اتنی مقبول اور مرغوب ہوئی کہ ازاں بعد آپ نے ہر ماہ کی گیارہ تاریخ کو حضور ﷺ کا ختم شریف  مقرر فرما دیا اور پھر دوسرے لوگ بھی آپ کی اتباع میں گیارہ تاریخ کو ہی نبی کریم ﷺ کا ختم اور نیاز دلانے لگے ،آخر رفتہ رفتہ یہی نیاز غوث پاک  ؓ کی گیارہویں سے مشہور ہو گئی آج کل لوگ محبوب صمدانی قطب ربانی جناب سیّد عبد القادر جیلانی ؓ کی فاتحہ اور عرس شریف بھی گیارہ تاریخ کو ہی کرتے ہیں ورنہ تاریخ وفات آپ کی سترہ ربیع الثانی ہے نیز شیخ  عبد الحق محدّث دہلویؒ نے کتاب ماثبت بالسنّت صفحہ ۱۲۷ میں حضرت شیخ سیّد عبد القادر جیلانی  ؓ کا یوم وصال بھی گیارہ ربیع الاخر اور گیارہویں شریف کو آپ کا عرس مبارک لکھا ہے  فرماتے ہیں ؛یعنی یہ (گیارہ ربیع الاخر )وہ تاریخ ہے جس پر ہم نے پیشوا مقتدر خدا شناس شیخ کامل عبد الوہاب قادری پر ہیز گار مکّے والے کو کو پایا ہے ،یہ بزرگ اسی تاریخ کو نگاہ  رکھتا تھا یا تو اسی روایت کے اعتماد پر یااس سبب سے کہ اپنے پیر شیخ علی متقی کو دیکھا ہوا اور ہمارے ملک میں آجکل (آپ کی تاریخ وصال )گیارہویں تاریخ کو ہی مشہور ہورہی ہے  اور ہمارے ہندستان کے مشائخ اور ان کی اولاد کے نزدیک یہی متعارف (مشہور) ہے اور یہ سنّت (نیاز گیارہویں شریف )بزرگان دین متین سے ظاہر ہوئی ہے ‘‘ثابت ہوا کہ  گیارہویں شریف خواجئہ دوسرائے حضرت محمد ﷺ اور جناب غوث صمد انی سیّد عبد القادر جیلانی  ؓ کا عرس شریف ہے ،    

 گیارہویں  شریف  کے  جواز کا دوسرے  طریق  سے ثبوت :

یادر ہے کہ فرائض و واجبات بعض مقّید بوقت ہیں ،جیسے نماز خمسہ و روزہ رمضان وقربانی و مناسک حج  اور بعض غیر موقت ہیں ،جیسے صدقہ فطر عشر و خراج وغیرہ اور باقی رہی عبادت  نفلی ،سواس میں منجانب شرع کوئی قید نہیںنفلی عبادت کرنے والا مختار ہے جب چاہے کرے ،خواہ کسی وقت کو خاص کر کے کرے یا جب چاہے کرے ،خواہ کسی مصلحت سے ماہ اور دن  مقرر کرکے کرے،شرعاََ کوئی ممانعت نہیں ہے اور وہ منجا نب اللہ مالک ومختار ہے ،بلکہ بفجوائے  خَیْرُُ الْاَ عْمَالِ  اَدْوَمُھَا(بخاری)جس عبادت نفلی پر مداومت کرے ،اس کو  ہمیشہ نبھائے تو زیادہ مستحق اجر ہے ،پس یہ لحاظ رہے کہ جس عبادت کو خدا تعالی نے فرض واجب نہیں گردانا ، اس کو اپنی طرف سے فر ض وواجب اعتقاد نہ کرے نفل کو نفل اعتقاد  کرتے ہوئے اس پر مواظبت اور ہمیشگی کرنا مستحسن ہے ،جیسے بزرگانِ دین کے عرس تاریخ مقررہ  پر کرتے ہیں ،تیجہ ،چالیسواں ،ختم خواجگان اور گیارہویں شریف وغیرہ  معمولات مشائخ کرام ،لیکن اس تعیّن تاریخ کو اعتقاداََ فرض واجب نہیں سمجھا جاتا لہذا 
اس میں کوئی قباحت شرعی نہیں اور حدیث شریف میں نفلی عبادات کے از خود اختیار کر لینے  اور اس کے جواز و تعین کی متعدد مثالیں موجود ہیں ،
مثلاََ؛
بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ثابت ہے کہ حضرت بلال ؓنے  از خود بلا ارشاد نبوی ﷺ تحیتہ الوضو کے نوافل پڑھنے کی مبارک عادت اختیار فرما رکھی تھی ،جس کی وجہ سے حضورﷺنے جنّت میں اپنے آگے اُن کی جوتیوں کی آواز سنی اور دریافت فرماکر کہ تم کیا عبادت کرتے ہو،جس کی وجہ سے تمہیں اتنی شان عطائی ہوئی ہے ،اُن  کے نوافل کو جائز اور برقرار رکھا(مشکوٰۃ جامع المناقب بحوالہ صحیح مسلم بروایت جابر)
بخاری شریف میں روایت ہے کہ ایک صحابی نے نماز پڑھنے کے وقت ہر سورہ کے ساتھ قُل شریف ملانے کی عادت اختیار فرما رکھی تھی جب ان کا یہ حال نبی کریمﷺ کی خدمت  فیض درجت میں عرض کیا گیا تو آپ نے اس صحابی  ؓسے اس کی وجہ دریافت فرمائی تو اس نے عرض کیا کہ اس آیت شریف سے بوجہ تو حید الہیٰ مجھے بہت محبت ہے یہ سن کر رحمت  عالم ﷺنے ارشاد فرمایا تو حید الہیٰ سے تیری یہ محبت تجھے جنت میں لے جا ئے گی
ابودائو د شریف میں ہے کہ اذان فجر سے پہلے حضرت بلا ل  ؓ نے حضور ﷺ سے سیکھے اور آپ کے بتائے بغیر خود بخود یہ دعا  پڑھنے کی عادت اختیار فرما ر کھی تھی ۔اَللّھُمَّ اِنِّیْ اَحْمَدُ کَ وَاَستَعِیْنُکَ عَلی  قُرَ یْشِِِِ اَن  یُّقِیْمُوْا دِیْنَکَ 
 اسی طرح امام بخاری ؒنے ہر حدیث شریف لکھنے سے پیشتر غسل فرمانے اور دورکعت دوگانہ ادا کرنے کی عبادت لازم فرمارکھی تھی (دیبا چہ تجر ید البخا ری صفحہ ۵ وتاریخ  وفیات الا  عیان علاّ مہ ابن خلدون)سوال یہ ہے کہ اگر جملہ کارہائے خیراور نوافل عبادت وغیرہ  کے لیے اپنی طرف سے وقت اور تعداد مقرر کرنے کی ہر گز اور مطلقََا اجازت نہیں ہے تو امام  بخاری ؒ  باوجود اتنے بڑ ے محدّث اور متقی ہونے کے اس بدعت کے کیوں مرتکب ہوئے ؟پس گیارہویں شریف کو بھی جو بحکم الہیٰ  وَ  یُطْعِمُوْ نَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّھ مِسْکِیْناََ   وَّیَتِیْمََا  وَّاَ سِیْرََا(پارہ ؛۲۹،س ؛دھر)وَتَعَا وَنُو ا عَلَی البِرِّوَ التَّقوی(پارہ  ۶،سورہ مائدہ)کے لحاظ سے سخاوت مالی اور ایثار اور امداد و معاونت علی التقویٰ پر موقوف  ہے اور تعین وقت و تاریخ کے اعتبار سے نوافل اور عبادت بالسعادت میں شامل ہے ،اسی پر قیاس کرلو،

  گیا رہویں  شریف  کے جواز  کا تیسر ے  طریق سے ثبوت: 

صحیح مسلم اور بخاری میں امّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ اُم المومنین حضرت خدیجہ الکبر ؓ کا اکثر ذکر خیر فرماتے ؛یعنی اکثر بکری ذبح فرماتے اور اُس  کے ٹکڑے ٹکڑے کاٹ کر اُم المومنین حضرت خدیجہ ؓ کے قرابت والوں کو بھیج دیتے تھے ۔ حضرت مولانا شاہ رفیع الدین صاحب محدّث دہلوی ؒ  اپنے رسالہ نذور اولیاء کرام میں اس حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں ؛نذر کی دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی حاکم یا زمیندار کسی صلے کے طور پر یا کسی (بزرگ یا قریبی)میّت کی روح کی خوشنودی اورثواب کے لیے وقت مقرر کردیوے (جیسا کہ گیارہویں شریف ہر ماہ دی جاتی ہے )یاسالانہ یا ششماہی وغیرہ اس کے نام پر مقرر کردے تو نذر کی یہ قسم بھی جائز ہے ،اس لیے کہ جناب رسول خدا ﷺ اُم  المومنین حضرت خد یجہؓ کے صدائق میں اکثر گوشت اور کھانا بھیجتے رہتے تھے ‘‘فقیر کہتا ہے گیارہویں شریف کی بھی اصل ہے ،کیونکہ اس میں بھی بتوسل حضور پر نور ﷺجناب پیران پیر جملہ مومنین اور دیگر بزرگانِ دین رحمتہ اللہ علیہم اجمعین کے اروح مقدسہ کو ایصالِ ثواب کیا جاتا ہے  
  گیارہویں  شریف  کے  جواز  میں مولوی  ثنا ء اللہ  صاحب  ایڈ یٹر  اخبار  اہلحد یث  امر تسری  کا فتویٰ لکھتے ہیں ؛’’
گیارہویں شریف بظاہر ایک بزرگِ اسلام کی یادگار کا ایک جلسہ ہے اگر اسے مذہب کا جامہ نہ پہنایا جاتا بلکہ دُنیاوی صورت میں بطور یادگار کے سالا نہ جلسہ کیا جاتا ،تو 
کچھ مضائقہ  نہ تھا‘‘(حیات طیّبہ صفحہ نمبر۱۲)
مولوی صاحب کے ارشاد سے مند رجہ ذیل باتیں ثابت ہوگئیں ؛                                                                      
     (۱)کسی بزرگِ اسلام کا بطور یاد گار جلسہ سالانہ کرنا جائز ہے فقیر کہتا ہے اگر سالانہ جلسہ کرنا جائز ہے تو اسی اُصول کے ماتحت ماہانہ (گیارہویں شریف وعرس ومولود شریف  وغیرہ)بھی جائز ہوگا
(۲)جو چیز دنیاوی صورت میں جائز ہوگی وہ دینی صورت میں بھی جائز ہوگی اور جو چیز دنیاوی صورت میں حرام ہوگی وہ دینی صورت میں بھی حرام ہوگی ،کیونکہ بندہ دنیاوی اور دینی  دونوں صورتوں میں اپنے اعمال کا خدا کی جناب میں جواب دہ اور ذمّہ دار ہے اور پھر مسلمان کی دنیا ،دین سے جدا نہیں ہے ،جیسا کہ  رَبَّنِاٍاتِنِا فِی  الدُّنیَا حَسَنَۃََ وَ فِی  الا خِرَۃِ حَسَنَۃََ کا ارشاد الہیٰ اس بات پر شاہد ہے نیاز گیارہویں شریف مند رجہ ذیل باتوں پر مشتمل ہوتی ہے ؛(۱)ایصالِ ثواب (۲)الموسوم  بالغیر (۳)تعیّن الیو م(۴)فاتحہ بر طعام (۵)اگر ممکن ہو تو کچھ وعظ و نصحیت ،   

  مولوی  رشید  احمد گنگوہی صاحب :

فرماتے  ہئں کہ ’’ایک بار (مولوی  رشید احمد گنگوہی صاحب )نے  ارشاد فرمایا کہ ایک روز میں نے شیخ عبد القدوس علیہ الرحمہ کے ایصیالِ ثواب کو کھانا پکوایا تھااس روز حضرت عبد اللہ بن مسعود  ؓ کو خواب میں دیکھا کہ میں ان کے پاس بیٹھا ہوںیہ دیکھ کر آنکھ کھل گئی اس کے بعد آپ نے یہ بھی فرمایااس وقت سے مجھے حنفی  مذہب کے ساتھ محبت ہوگئی شیخ کے ایصال ثواب کے موقع پر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی زیارت کا تنا سب حضرت سے کسی نے دریافت نہیں کیا عجیب تھا کہ کوئی جدید فائدہ حاصل  ہوتا ۔(تذ کرۃ الر شید حصہ ۲ ،ص۳۱۷ )اور ایک فتویٰ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’بزرگوں کو جو نذر دیتے ہے وہ  ہدیہ ہے اور درست ہے اور جواموات اولیاء کی نذر ہے تو اسکے اگر یہ معنی  ہیں کہ اس کا ثواب ان کی روح کو پہو نچے تو صدقہ ہے درست ہے (حوالہ :فتاویٰ رشیدیہ ،جلد اول ص۵۷)

  گیارہویں  شریف  کا ثبوت: 

بزرگانِ دین کی شہادتوں سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ گیارہویں شریف کو جودہ دور کی ایجاد نہیں بلکہ اسلاف کا قدیم طریقہ ہے اور صا لحین کی پسندیدہ  چیز  پر عمل کرنے کے  متعلق نبی پاک ﷺ کا ارشاد گرامی موجود ہے ’’مَارَا  ہُ  الْمُوْٗ مِنُوْنَ  حَسََنَا فَھُوَ عِنْدَ اللہ حَسن  ‘‘ یعنی جس چیزکو مسلمان اچھا سمجھیں وہ چیز اللہ تعالیٰ کے نذدیک اچھی ہے کتب اصول میں ہے ’’ ا لمستجب ما احبھ  العلماء  ‘‘‘یعنی مستحب وہ ہے جسے علماء پسند کریںچنانچہ زمانہ قدیم سے علماء کرام اور مشائخ عظام گیارہویں شریف کی تقریب  کا ا ہتما م فرماتے ہیں۔ 

No comments:

Post a Comment